مہرخبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ برطانوی حکومت نے اسکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے ممکنہ علیحدگی سے قبل اسے مکمل اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے برطانیہ کا یہ فیصلہ اسکاٹ لینڈ میں 18 ستمبر کو ہونے والے ریفرنڈم کو ناکام بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔اطلاعات کے مطابق اسکاٹ لینڈ میں تاج برطانیہ سے علیحدگی کے لئے ریفرنڈم 18 ستمبر کو ہونے جارہا ہے جبکہ اس سلسلے میں علیحدگی پسند جماعت اسکاٹش نیشنل پارٹی کی جانب سے مہم زوروں پر ہے، ریفرنڈم سے قبل عوام کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے برطانوی حکومت نے اسکاٹ لینڈ کو تمام تر اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ٹیکس وصولیوں کا اختیارات اور سرکاری رقم خرچ کرنے کا اختیار شامل ہے۔
ادھر مقامی اخبار میں گزشتہ روز شائع ہونے والے عوامی رائے عامہ کے مطابق اسکاٹ لینڈ کے 51 فیصد عوام علیحدہ ملک کے حق میں ہیں جبکہ 49 فیصد افراد نے اس کے خلاف فیصلہ دیا۔ حالیہ سروے کے بعد برطانوی وزیر خزانہ جارج اوسبوم نے اعلان کیا ہے کہ اگر اسکاٹ کے عوام ریفرنڈم کو مسترد کرتے ہوئے 300 سالہ انگلینڈ یونین میں ہی رہنے کو ترجیح دیں تو انہیں تمام تر اختیارات دینے کو تیار ہیں.علیحدگی پسند تنظیم کے سربراہ کا تاج برطانیہ سے آزادی لینے کے حوالے سے کہنا تھا کہ اسکاٹ لینڈ جلد اپنی پہنچان لے کر دنیا کے نقشے پر ابھرے گا جسے آزادی اور خودمختار ملک بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب واضح ہو چکا ہے کہ عوام اپنے حق کے لئے سرگرم ہیں جس کا فیصلہ 18 ستمبر کے ریفرنڈم کی صورت میں ہوگا لیکن برطانیہ نے اپنی مذموم کوششوں کو شروع کردیا ہے۔
آپ کا تبصرہ